Thursday, November 28, 2013

پاکستان کا نیا چیف آف آرمی سٹاف - بائیوگرافی

4 تبصرے



جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے بروز ہفتہ بتاریخ 16 جون 1956ء کو کوئٹہ میں ایک ایسے راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی جس کا پاک فوج سے انتہائی گہرا تعلق ہے۔ بنیادی طور پر آپ صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک قصبے کُنجا سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کے والد محمد شریف پاک فوج کے میجر (ریٹائرڈ) ہیں۔ آپ کے والدین نے کٗنجا سے منتقل ہو کر لاہور میں رہائش اختیار کی۔ 3 بھائیوں اور 2 بہنوں میں آپ سب سے چھوٹے ہیں۔ آپ کے ایک بھائی کا نام میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر ستارہ جرات ہے جنہوں نے پاک بھارت جنگ 1971ء میں جامِ شہادت نوش کیا اور نشانِ حیدر حاصل کیا، اور دوسرے بھائی کا نام کیپٹن ممتاز شریف ستارہ بصالت ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز سپوت میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، جنہوں نے پاک بھارت جنگ 1965ء میں جامِ شہادت نوش کیا اور نشانِ حیدر حاصل کیا، آپ کی والدہ کے بہنوئی ہیں، اس طرح وہ آپ کے خالو ہوئے۔ آپ کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہیں۔ آپ کا بڑا بیٹا اکنامسٹ ہے اور باقی دونوں بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ آپ کو مطالعہ، پیراکی اور شکار کا شوق ہے۔

آپ کی بڑی ہمشیرہ مسز نجمی کامران کے بقول آپ ایک انتہائی کمٹِڈ اور اپنا کام لگن سے کرتے ہیں۔ آپ کے بھتیجے اور میجر شبیر شریف شہید کے صاحبزادے تیمور شبیر شریف نے بتایا کہ آپ ایک بہترین فوجی اور شفیق انسان ہیں، آپ کو خاندان میں پیار سے بوبی کے نام سے پکارا جاتا ہے، آپ بہت پروفیشنل ہیں اور اپنے تمام کورسز میں ٹاپ کیا ہے، اُنہوں نے مزید کہا کہ آپ کو گاڑیوں کا بہت شوق ہے اور انہیں جب بھی فرصت کے لمحات میسر آتے ہیں تو وہ لانگ ڈرائیو بھی کرتے ہیں۔

آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی، جو کہ اب یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے بعد آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول میں داخلہ لے لیا اور 54واں کورس پاس کیا، گریجوایشن کرنے کے بعد آپ نے اکتوبر 1976 کو فرنٹیر فورس بلوچ رجمنٹ کی چھٹی بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں آپ نے انفنٹری بریگیڈ گلگت میں فرائض سر انجام دیے، اس کے علاوہ آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے معاون کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے جرمنی سے کمپنی کمانڈر کا کورس کیا اور بعد ازاں سکول آف انفنٹری ان ٹیکٹکس میں بطور انسٹرکٹر خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کینیڈا سے اعزاز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ کمانڈ سٹاف اور انسٹرکشنل تقرریوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی ترقی ہوتی رہی اور پھر جنرل پرویز مشرف نے آپ کو گیارہویں انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ سونپ دی۔ جب آپ نے بریگیڈئر کا رینک حاصل کیا تو بریگیڈیر کی حیثیت سے انڈیپینڈنٹ انفنٹری گروپ اور دو انفنٹری بریگیڈز کی کمانڈ کی، جن میں کشمیر میں 6 فرنٹیر فورس رجمنٹ اور سیالکوٹ بارڈر پر 26 فرنٹیر فورس رجمنٹ شامل ہیں۔ آپ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کی فیکلٹی میں شامل رہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے آرمڈ فورسز وار کورس کیا۔ آپ 30 کور اور 12 کور کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ آپ نے برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے گریجوایشن کی۔ اس کے علاوہ آپ انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈر اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے رینک تک ترقی حاصل کرنے کے بعد آپ نے 2 سال تک 30 کور کی کمانڈ کی اور اس کے بعد آپ کو پاک فوج کی ٹریننگ کے لیے انسپکٹر جنرل آف ٹریننگ اینڈ ایوالیوایشن کے عہدے پر فائض کر دیا گیا۔

آپ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو ہیں اور آپ نے آئی ایس آئی کے انسداد دہشتگردی ڈویژن کی کمانڈ بھی کی۔ آپ اپنے کیرئر میں بہت خوش قسمت رہے، ایسا دو بار ہوا جب قسمت آپ پر مہربان رہی۔ اول آپ جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریب رہے اور پسندیدہ افسران میں شامل تھے، 2002 میں جب آپ بریگیڈیئر تھے جنرل پرویز مشرف نے آپ کو ندیم تاج کی جگہ اپنا ملٹری سیکرٹری مقرر کیا (ندیم تاج پیپلز پارٹی کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے)۔ قسمت آپ پر یوں مہربان ہوئی کہ آپ کو برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹریٹیجیز میں گریجوایشن کی آفر ہوئی جو آپ نے قبول کرلی اور برطانیہ چلے گئے، اگر آپ یہ آفر قبول نہ کرتے اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بطور ملٹری سیکرٹری ہی رہتے تو آج آپ کا کیرئیر مختلف ہوتا۔ دوسری بار قسمت یوں مہربان ہوئی کہ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم (جن کو آرمی چیف نہیں بنایا گیا) 12 اکتوبر 1999 کو (جب نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹایا گیا تھا) ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ اُس وقت ڈائریکٹوریٹ میں ان کے علاوہ بریگیڈیر ہارون سکندر پاشا (جو میجر جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے) اور بریگیڈئر اطہر علی (جو لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور بطور سیکرٹری دفاع اپنا کانٹریکٹ پورا کیا) بھی ڈائریکٹرز کی حیثیت سے تعینات رہے۔ وزیرِاعظم نواز شریف نے انتہائی باریک بینی سے سینیارٹی فہرست میں موجود تمام افسران کا جائزہ لینے کے بعد بالآخر آپ کو آرمی چیف منتخب کیا۔

بروز بدھ بتاریخ 27 نومبر 2013 وزیرِاعظم پاکستان جناب میاں نواز شریف نے آپ سے 15 منٹ کی ملاقات میں آپ کو بتایا کہ اُنہوں نے صدرِ مملکت کو ایک سمری بھیجی ہے جس میں آپ کو چیف آف آرمی سٹاف نامزد کیا گیا ہے۔ آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیرِاعظم، صدر، پاک فوج اور پاکستانی قوم کی توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے۔ صدرِ مملکت پاکستان جناب ممنون حسین نے آئین کے آرٹیکل 243/4 (اے) اور 243/4 (بی) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بروز جمعہ بتاریخ 29 نومبر 2013 آپ کو فور سٹار جنرل کے رینک تک ترقی دی اور اُسی دن بحکم صدرِ پاکستان آپ کو پاکستان کے پندرہویں چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر منتخب کیا گیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نےجنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں بروز جمعہ بتاریخ 29 نومبر 2013 کو ایک تقریب میں کمانڈ سٹِک اور پاک فوج کا چارج دیا۔

ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر رساں ادارے رائٹر کی ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) بھارت سے کشمکش کے ساتھ ساتھ اندرونی خطرات کو بھی اُتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر، جن کی ماتحتی میں جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے کام کیا تھا، نے بتایا کہ آپ نے فوجی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا کہ طالبان اور پاکستان کے اندر دیگر عسکریت پسند گروپس بھی اُتنا ہی بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ بھارت۔

Wednesday, May 1, 2013

یکم مئی | یومِ مزدور

2 تبصرے
آج یومِ مزدور ہے جو کہ ہر سال مزدوروں کی ہمت بڑھانے اور حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے۔ ان دن کا آغاز لیبر یونین کی تحریک برائے "آٹھ گھنٹے کام" سے برطانیہ میں ہوا۔ اس سے پہلے روزانہ کام کرنے کا دورانیہ 10 سے 16 گھنٹے ہوا کرتا تھا اور بچے بھی اس مزدوری میں شامل تھے (جیسا کہ آجکل ہمارے پاکستان میں بچوں سے مزدوری کرائی جاتی ہے)۔ ایسے میں 'رابرٹ اوون' نے 1810 میں کام کے اتنے لمبے دورانے کو 10 گھنٹوں تک محدود کرنے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا، لیکن 1817 میں اس نے فیصلہ کیا کہ کام کرنے کا دورانیہ 10 کی بجائے 8 گھنٹے ہونا چاہیے، اور اس کے لیے اس نے مشہورِ زمانہ نعرہ بلند کیا "8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے ذاتی اور 8 گھنٹے آرام"۔ 1847 میں حکومت انگلستان نے عورتوں اور بچوں کے لیے کام کرنے کا دورانیہ 10 گھنٹوں تک محدود کر دیا۔ اگست 1866 میں 'جینیوا' میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں 'مزدوروں کے بین الاقوامی ادارے' نے یہ مطالبہ کیا کہ تمام مزدوروں کے لیے کام کرنے کا دورانیہ 8 گھنٹے کیا جائے اور اُن کا یہ مطالبہ مان لیا گیا۔

1 مئی 1923 کو برِ صغیر پاک و ہند میں پہلی بار یومِ مزدور 'مدراس' میں منایا گیا۔ دنیا کے 80 سے زائد ممالک کی طرح یہ دِن پاکستان میں بھی پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، پاکستان میں اس دِن عام تعطیل ہوتی ہے اور تمام حکومتی و غیر حکومتی ادارے، کارخانے اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی مزدور پالیسی 1972 میں بنائی گئی، لیکن پاکستان میں اب تک 5 مرتبہ مزدوروں کے لیے پالیسیاں بنائی اور تبدیل کی جا چکی ہیں:

 1) مزدور پالیسی 1955
 2) مزدور پالیسی 1959
 3) مزدور پالیسی 1969
 4) مزدور پالیسی 1972
 5) مزدور پالیسی 2002

 ان کے مطابق یکم مئی کو قانونی طور پر عام تعطیل کا دن قرار دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے آئین میں بھی پاکستانی مزدوروں کے لیے قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ ان پالیسیوں میں 'سوشل سیکیورٹی نیٹ ورک'، 'اولڈ ایج بینیفٹ سکیم' اور 'ورکرز ویلفیئر فنڈ' کے قیام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ پاکستان اپنی آزادی کے بعد 1947 سے ہی 'ادارہ برائے بین الاقوامی مزدور' میں شامل ہے جو کہ 'اقوامِ متحدہ' کا ذیلی ادارہ ہے جس کام دنیا بھر میں عام لوگوں اور مزدوروں کو ان کے حقوق سے روشناس کرانا ہے۔ پاکستان اس ادارے کی اب تک 36 کانفرنسز میں شرکت کر چکا ہے جن میں سے 8 انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، گو کہ حالات اب پہلے سے قدرے بہتر ہیں، لیکن اب بھی مزدوروں کے لیے یہاں اتنی آسانیاں نہیں ہیں جتنی ترقی یافتہ ممالک میں ہیں۔ دوسرے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس روز مزدور جماعتوں کی طرف سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، مزدور لیڈر حضرات ان ریلیوں سے خطاب کرتے ہیں۔ یہ ریلیاں پورے پاکستان میں منعقد کی جاتی ہیں بالخصوص بڑے شہروں میں، اسی لیے اس دن تمام شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر رہتی ہے، کچھ بس مالکان اس دن اپنی بسیں نہیں چلاتے کیونکہ یہ عام تعطیل کا دِن ہے، اور چھٹی کی وجہ سے مسافروں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔ ٹریفک کی قدرے کم تعداد کے باوجود کچھ جگہوں پر ٹریفک جام نظر آتا ہے۔

ان سارے اقدامات کے باوجود پاکستان میں مزدوروں کی آمدنی میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں کیا جا سکا، مزدور لوگ آج بھی جب صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں تو یہ نہیں جانتے کہ شام کو اپنے گھر والوں کے لیے روٹی خرید لائیں گے یا نہیں، ان کے گھر والے فاقے برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ ریلیاں ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں، یہ صرف ایک ڈھکوسلہ ہے۔ کل بھی مزدور کی روزی 'ہوائی' تھی اور آج بھی ہے۔ کل بھی مزدور پاکستان میں بھوک کے ہاتھوں مر رہے تھے، خود سوزی کر رہے تھے اور آج بھی یہی حال ہے۔ 67 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے مگر ابھی تک مزدور اسی نہج پر کھڑے ہیں جہاں سے پیچھے کچھ نہیں ہے اور آگے آنے کی سکت باقی نہیں بچی۔ ہمارا ملک تو شاید آزاد ہو گیا تھا لیکن ہم آج تک آزاد نہیں ہو سکے۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر یومِ مزدور کیوں منایا جا رہا ہے؟

Sunday, April 7, 2013

بلاگ پر سوشل میڈیا کے تیرتے ہوئے بٹن لگانا

0 تبصرے
آج کے دور میں بلاگ بنانا بہت آسان ہو گیا ہے، پاکستان میں ہی اب لاکھوں کی تعداد میں بلاگرز ہیں، گو کہ اردو بلاگرز کی تعداد کم ہے لیکن ہم بھی اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ بلاگ میں ایک مضمون لِکھ دینا اور پھر ایک اور لِکھ دینا اور پھر ایک اور، ایک اور، ایک اور...........

آپ اگر بلاگنگ کرتے ہیں، تو لازماَ یہ بھی چاہتے ہوں گے کہ لوگ آپ کا مضمون پڑھیں، اس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں، اپنے دوستوں کو بتائیں۔ اب چاہے آپ جتنے مرضی مضمون تحریر کر لیں، جس موضوع پر چاہیں قلم اُٹھا لیں، مگر مجھے یا کسی دوسرے عام آدمی کو تو چھوڑیں، آپ کے بغل میں بیٹھے شخص کو بھی اس کا ادراک نہیں ہو پائے گا۔ آپ کو بذاتِ خود اسے بتانا پڑے گا کہ "میں نے ایک مضمون تحریر کیا ہے" آپ یہ مضمون پڑھیں۔

ظاہر ہے، جب آپ کوئی نیا مضمون تحریر کرتے ہیں تو کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ نے ابھی ابھی کوئی مضمون تحریر کیا ہے، ہاں اگر آپ کے بلاگ کا کوئی قاری باقاعدگی سے آپ کے بلاگ کا مطالعہ کرتا ہے تو اُسے آپ کی تازہ تحریر کے بارے میں آپ کے بِن بتائے ہی معلوم ہو جائے گا، مگر کسی اور شخص کو تو کبھی بھی نہیں، اور ایسے میں آپ کی تحریر کو پڑھنے والے بہت ہی کم ہوں گے، آٹے میں نمک کے برابر۔

اِس لیے جب بھی آپ کچھ تحریر کرتے ہیں تو ایک بات کا خیال رکھیں کہ اُس کے بارے میں آپ کو خود ہی بتانا پڑے گا کہ آئیے اور میرے مضمون کا مطالعہ کیجیے۔ اب بات یہ اُٹھتی ہے کہ کِس کِس کو اور کِس طریقے سے بتایا جائے؟

اپنی تحریر کے بارے میں کِن لوگوں کو بتایا جائے، یہ ایک الگ موضوع ہے، ابھی ہم بات کرتے ہیں کہ لوگوں کو کِس طریقے سے بتایا جائے؟ تو اِس کے بہت سارے طریقے ہیں۔ آپ اپنے دوستوں/رشتہ داروں کو فون پر میسج کر سکتے ہیں، یا ای-میل کر سکتے ہیں، یا بنفسِ نفیس بھی بتا سکتے ہیں، لیکن جِن لوگوں کو آپ نہیں جانتے اُن کو بتانے کے لیے آپ کو کسی ایسی جگہ جانا ہو گا جہاں بہت سارے لوگ موجود ہوں۔ تو ایسی جگہ تو صرف "سوشل میڈیا" ویب سائٹس ہی ہو سکتی ہیں۔

یعنی کہ آپ کو اپنی تازہ یا پرانی تحاریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹس کا سہارا لینا پڑے گا۔ اب آپ چند ایک سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیں اور اپنی تحاریر ان ویب سائٹس پر شیئر کریں۔ ہر نئی تحریر کے لیے پہلی بار تو آپ کو خود ہی شیئر کرنا پڑے گا، لیکن سب کام آپ نے ہی تو نہیں کرنا، آخر کچھ ذمہ داری تو ہمارے قارئین کی بھی بنتی ہے نا! تو آپ کچھ ایسے اقدامات کریں کہ آپ کے قارئین آپ کی تحریر کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کے قابل ہو جائیں۔ لیکن آپ کو قارئین کے لیے یہ سہولت ہر جگہ بہم پہنچانی ہو گی، تا کہ قارئین کو آپ کی تحریر شئیر کرنے میں دشواری پیش نہ آئے۔

ایک بہت اچھی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے کچھ سکرپٹس/کوڈز موجود ہیں جو آپ کے اس کام کو بہت ہی آسان کر دیتے ہیں۔ آپ اِن سکرپٹس/کوڈز کی مدد سے اپنے بلاگ کو مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹ کے شئیرنگ بٹنوں کے ساتھ مزین کر سکتے ہیں، اور آپ کے قارئین اپنی مرضی کی سوشل ویب سائٹ کا بٹن استعمال کر کے آپ کی تحریر اس ویب سائٹ پر شئیر کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے ایک بہترین سکرپٹ/کوڈ موجود ہے جو کچھ سوشل ویب سائٹس کے بٹنوں کی ایک لسٹ آپ کے بلاگ کے دائیں یا بائیں طرف آویزاں کر دیتا ہے، جو ہر وقت اور ہر مضمون پر نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اور آجکل بلاگرز کی بڑی تعداد یہی سکرپٹ/کوڈ استعمال کرتی ہے۔ تو آئیے اب آپ کو اس کوڈ اور اس کے استعمال کا طریقہ بتا دوں:

1. سب سے پہلے اپنے بلاگ کے Dashboard پر جائیں
2. اب Layout پر کلِک کریں
3. اب وہاں پر کسی بھی جگہ Add a Gadget پر کلِک کر لیں
4. ایک نئی ونڈو کھلے گی، اُس میں سے HTML/JavaScript پر کلِک کریں
5. اب ایک اور خالی ونڈو کھل جائے گی
6. اب آپ ایک ویب سائٹ (www.addthis.com)  کھولیں
7. یہاں A Website والے آپشن کو چُنیں (جیسا کہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے)
8. پھر سوشل ویب سائٹس کے بٹنوں کی اپنی مرضی کی ترتیب چُنیں
9. اس کا Preview دیکھ لیں
10. اب Preview کے خانے کے نیچے اس کے مخصوص کوڈ کو کاپی کر لیں
11. اب آپ واپس HTML/JavaScript والی ونڈو میں آ جائیں اور کاپی کیا ہوا کوڈ اس میں لکھ (Ctrl + V) دیں
12. اب آپ اس کو محفوظ کرلیں (محفوظ کرنے کا بٹن نیچے ہو گا)
13. اب آپ اپنے بلاگ کا Preview دیکھیں، آپ کا کام پورا ہو چکا ہو گا۔


آپ اس کوڈ میں اپنے بلاگ کے تھیم کے مطابق مندرجہ ذیل تبدیلیاں کر لیں:

1. سوشل ویب سائٹس کے بٹن پہلے بائیں طرف ظاہر ہوں گے، آپ اِن کو دائیں طرف آویزاں کر سکتے ہیں، کوڈ میں left کی جگہ right لکھ کر۔
2. سوشل ویب سائٹس کے بٹنوں کی تعداد 4 ہو گی، آپ یہ تعداد بڑھا بھی سکتے ہیں۔


تو دوستو! آج کا کام مکمل ہوا۔ اُمید ہے اب آپ اپنی تحاریر کی تشہیر باآسانی کر لیا کریں گے اور اپنے قارئین کو بھی آسانیاں بہم پہنچا سکیں گے، اُمید کرتا ہوں کہ آپ اپنے قیمتی "خیالات" کا اظہار ضرور کریں گے۔

Friday, April 5, 2013

بلاگر میں "مکمل تحریر پڑھیں" کا تصویری لنک بنانا

0 تبصرے
کسی بلاگ کا مصنف/ایڈمن/مالک ہونا کوئی بڑی بات نہیں، لیکن اس بلاگ کو اچھی طرح مرتب کیے رکھنا، بلاگ کے قارئین کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس میں وہ تمام مواد شامل کرنا، جس کی تلاش قارئین کو ہو سکتی ہے، ایک مہارت کا کام ہے۔

کوئی بھی مصنف جب اپنا قلم اٹھاتا ہے تو لکھتا ہی چلا جاتا ہے اور بعض اوقات مضمون بہت لمبا ہو جاتا ہے، ایسے مضامین بلاگ  پر بہت زیادہ جگہ گھیرلیتے ہیں اور اس طرح کے بلاگ، چاہے دلچسپ بھی کیوں نہ ہوں، اپنے قارئین پر کچھ خاص تاثر نہیں چھوڑ پاتے، کیونکہ کوئی بھی قاری جب پہلی بار آپ کے بلاگ پر آتا ہے تو سب سے پہلے آپ کے بلاگ کی خوبصورتی اسے متاثر کرتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ میری رائے سے اختلاف کریں، کیونکہ میں نے اکثر یہ سنا ہے کہ "اچھا مواد بادشاہ ہوتا ہے"، لیکن ذرا سوچنے کی بات ہے کہ 'اگر اچھا کھانا کسی ایسے برتن میں پیش کیا جائے جو صاف نہ ہو، خوبصورت نہ ہو، بھدا ہو، تو کھانے کا لطف ہی باقی نہیں رہتا۔'

ظاہر ہے، جب کوئی قاری پہلی بار آپ کا بلاگ دیکھے گا تو اس وقت وہ نہیں جانتا ہو گا کہ اس بلاگ میں کتنا اچھا مواد ہے (ہاں! اگر آپ اسے بلاگ پر آنے سے پہلے کسی طرح بتا دیں، تو اور بات ہے)، اس لیے سب سے پہلے وہ آپ کے بلاگ کی خوبصورتی اور ترتیب دیکھے گا۔

بلاگ میں عموماَ یہ سہولت ہوتی ہے کہ آپ پہلے صفحے پر اپنی مرضی کی گنتی کے مضامین دکھا سکتے ہیں مثلاَ 3، 4، 5، 10، وغیرہ۔ اور اگر آپ نے یہ تعداد 10 مختص کر رکھی ہے تو پھر لمبے لکھے ہوئے مضامین آپ کے قاری کی دلچسپی میں کمی واقع کر سکتے ہیں، کیونکہ قاری کو پہلے مضمون سے ہی فرست نہیں ملے گی جو ایک لمبا مضمون ہے (اور یہ میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی شخص بہت مشکل سے اتنا قابل اور ہونہار ہوتا ہے کہ اس کا لکھا ہوا ہر ایک مضمون ایسا ہو کہ قاری کی آنکھیں اس مضمون سے چپک جائیں۔)، اس لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ دوسرا یا تیسرا مضمون پڑھنے کے لیے نیچے جائے (اب ہو سکتا ہے کہ آپ کا اگلا مضمون بہت ہی اچھا ہو، لیکن قاری کے اس تک پہنچنے کے مواقع محدود ہیں)۔ اب یا تو قاری آپ کے بلاگ سے ہجرت کر جائے گا، یا ۔۔۔۔۔

آپ ایک طریقے سے اسے روک سکتے ہیں، مجبور کر سکتے ہیں، کہ وہ آپ کے اگلے مضامین بھی دیکھے۔  اگر آپ نے قاری کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی مضمون کھول کر پڑھنا شروع کر دے۔ ایسا کرنے کا طریقہ کچھ خاص مشکل تو نہیں لیکن بہت آسان بھی نہیں۔

اگر آپ بلاگنگ کرتے ہیں تو لازماَ HTML کے بارے میں بھی جانتے ہوں گے۔ اور اسی طرح کی کچھ دوسری زبانوں کے بارے میں بھی سنا ہو گا۔ تو ان ہی زبانوں میں لکھے ہوئے کئی ایک "سکرپٹ" آپ کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ایسا "سکرپٹ" ہے جو آپ کی تحاریر کو مختصر کر کے پیش کرتا ہے اور اس مختصر تحریر کے آخر میں ایک لنک شامل کر دیتا ہے تا کہ اگر قاری "مزید پڑھنا" چاہے تو اس پر کلِک کر کے پورا مضمون پڑھ لے۔

ایسا کرنے کے لیے آپ کو، اس طریقے کا مخصوص سکرپٹ، اپنے بلاگ کی HTML زبان میں لکھی ہوئی تفصیل میں شامل کرنا ہو گا، یہ سکرپٹ شامل کرنے کو بعد آپ کا ہر مضمون (چاہے وہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو) خود بخود مختصر ہو جائے گا، اور یہ بھی آپ کی مرضی پر منحصر ہو گا کہ آپ اس مضمون کو کتنے الفاظ تک مختصر کر کے دکھانا چاہتے ہیں۔

تو وہ سکرپٹ اور اسے HTML میں شامل کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے:

  • سب سے پہلے آپ اپنے بلاگ کے Template کو کھولیں
  • پھر Edit HTML پر کلِک کریں (ایک نئی ونڈو کھلے گی)
  • اس میں Expand Eidget Templates کو ٹِک کر دیں
  • اب اس میں <head/> کو تلاش کریں
  • اب نیچے دیا گیا سکرپٹ/کوڈ <head/> سے پہلے شامل کر دیں

<script type='text/javascript'>var thumbnail_mode = "no-float" ; 
summary_noimg = 430; 
summary_img = 340; 
img_thumb_height = 100; 
img_thumb_width = 120; 
</script> 
<script type='text/javascript'> 
//<![CDATA[ 
function removeHtmlTag(strx,chop){ 
if(strx.indexOf("<")!=-1) 
{ 
var s = strx.split("<"); 
for(var i=0;i<s.length;i++){ 
if(s[i].indexOf(">")!=-1){ 
s[i] = s[i].substring(s[i].indexOf(">")+1,s[i].length); 
} 
} 
strx = s.join(""); 
} 
chop = (chop < strx.length-1) ? chop : strx.length-2; 
while(strx.charAt(chop-1)!=' ' && strx.indexOf(' ',chop)!=-1) chop++; 
strx = strx.substring(0,chop-1); 
return strx+'...'; 
} 
function createSummaryAndThumb(pID){ 
var div = document.getElementById(pID); 
var imgtag = ""; 
var img = div.getElementsByTagName("img"); 
var summ = summary_noimg; 
if(img.length>=1) { 
imgtag = '<span style="float:left; padding:0px 10px 5px 0px;"><img src="'+img[0].src+'" width="'+img_thumb_width+'px" height="'+img_thumb_height+'px"/></span>'; 
summ = summary_img; 
} 
var summary = imgtag + '<div>' + removeHtmlTag(div.innerHTML,summ) + '</div>'; 
div.innerHTML = summary; 
} 
//]]></script> 

اب آپ اس میں اپنی مرضی کے مطابق مندرجہ ذیل چیزیں تبدیل کر لیں:

  • summary_noimg: یہاں اپنے مضمون کے ان الفاظ کی تعداد لکھیں جو مضمون کو مختصر کر کے دکھاے جائیں گے۔
  • summary_img: یہاں ان الفاظ کی تعداد لکھیں جو اس وقت ظاہر ہوں گے جب آپ نے اپنے مضمون میں کوئی تصویر شامل کی ہو گی۔
  • img_thumb_height: یہاں آپ اپنے مضمون کی تصویر کی بلندی بیان کریں۔
  • img_thumb_width: یہاں آپ اپنے مضمون کی تصویر کی چوڑائی بیان کریں۔
اب آپ HTML میں مندرجہ ذیل کوڈ تلاش کریں
<data:post.body/>
اب آپ مندرجہ بالا کوڈ کی جگہ نیچے دیا گیا کوڈ لکھ دیں

<b:if cond='data:blog.pageType == &quot;item&quot;'> 
<data:post.body/> 
<b:else/> 
<b:if cond='data:blog.pageType == &quot;static_page&quot;'> 
<data:post.body/> 
<b:else/> 
<div expr:id='&quot;summary&quot; + data:post.id'> 
<data:post.body/> 
</div> 
<script type='text/javascript'> 
createSummaryAndThumb(&quot;summary<data:post.id/>&quot;); 
</script> 
<span class='jump-link' style='font-weight:bold;padding:5px;float:right;text-align:right;'><a expr:href='data:post.url'>Continue Reading...</a></span>
<div style='clear: both;'/> 
</b:if> 
</b:if>
اب آپ Read More کی جگہ "مزید پڑھیں" لکھ دیں۔

آپ نے تمام کام مکمل کر لیا ہے۔ اب آپ یہ کام محفوظ کر لیں، بلکہ پہلے اپنے کام کا Preview دیکھ لیں، اب آپ کے مضامین میں "مزید پڑھیں" کا لنک شامل ہو گیا ہے۔ اگر آپ مطمئن ہیں تو کام کو محفوظ کر لیں۔

اب آپ کے تمام مضامین مختصر ہو کر ظاہر ہوں گے۔

جہاں آپ نے "مزید پڑھیں" لکھا ہے، ان الفاظ کی جگہ آپ کوئی تصویر/ بٹن/ آئی کون بھی لگا سکتے ہیں، ایسا کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کریں:

  • اپنی مخصوص تصویر/ بٹن/ آئی کون (جس پر اردو میں "مزید پڑھیں" لکھا ہو) کو بلاگر میں اپلوڈ کریں اور اس کا URL حاصل کریں۔
  • اب "مزید پڑھیں" الفاظ کی جگہ مندرجہ ذیل کوڈ لکھ دیں:
<img width="120px" heigth="32px" src="YOURIMAGEURL"/>
 اس کوڈ کو HTML میں شامل کرنے سے پہلے اس میں YOURIMAGEURL کی جگہ اپنی اپلوڈ کی ہوئی تصویر کا URL شامل کر دیں اور اس کے بعد اس کوڈ کو "مزید پڑھیں"  الفاظ کی جگہ لکھ دیں۔

آپ نے یہ کام بھی مکمل کر لیا۔ آپ اس کو بھی Preview میں دیکھ لیں، اب "مزید پڑھیں" کی جگہ آپ کی اپلوڈ کی ہوئی تصویر نظر آ رہی ہے۔ اب آپ اپنا یہ کام بھی محفوظ کر لیں اور HTML کی تفصیل والی ونڈو کو بند کر دیں۔ آپ کا بلاگ استعمال کے لیے تیار ہو گیا ہے۔

تو دوستو! یہ مضمون آپ کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟ اپنے "خیالات" کا اظہار ضرور کریں، اور اگر کچھ پوچھنا ہو تو میں ہر وقت حاضر ہوں۔

Tuesday, April 2, 2013

فیس بک ~ "لینڈنگ پیج" کے متبادل ذرائع

0 تبصرے
مارچ 2013 میں فیس بک نے اپنے "فَین پیجز" کے ایڈمن حضرات سے ایک حق چھین لیا، لینڈنگ پیج کے انتخاب کا حق!

اگر آپ کسی فین پیج کے ایڈمن ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ مارچ 2013 سے پہلے آپ اپنے پیج کے مہمانوں کے لیے کسی مخصوص "لینڈنگ پیج" یا "ٹیب" کو منتخب کر سکتے تھے، تا کہ آپ اپنے مہمانوں کو کوئی مخصوص چیز/لنک دکھا سکیں یا ان کو آپکا پیج "لائیک" کرنے پر "مجبور" کر سکیں۔
یہ مارکیٹنگ کے لیے ایک بہترین قدم تھا، لینڈنگ پیج پر آپ:

  • "لائیک گیٹ" استعمال کر کے اپنے مہمانوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے تھے کہ وہ آپ کے پیج کو "پسند" کریں۔
  • "ڈاؤن لوڈ گیٹ" کے ذریعے لوگوں کو کوئی سافٹ وئیر، کتاب، فلم، وغیرہ، ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دے سکتے تھے۔
  • "رِی ڈائریکٹ گیٹ" کے ذریعے آپ لوگوں کو کسی دوسرے پیج/ویب سائٹ پر بھیج سکتے تھے۔

مگر اب چونکہ فیس بک نے "لینڈنگ پیج/ٹیب" کے انتخاب کا حق آپ سے واپس لے لیا ہے، تو آپ اپنے مہمانوں سے مندرجہ بالا فوائد حاصل نہیں کر سکتے۔ لیکن اِس کا ہرگِز یہ مطلب نہیں کہ آپ لینڈنگ پیج/ٹیب نہیں بنا سکتے، یا "گیٹس" نہیں بنا سکتے، ایسا ہرگِز نہیں ہے، آپ اب بھی لینڈنگ پیج/ٹیب بنا سکتے ہیں اور ان پر گیٹس استعمال کر سکتے ہیں مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو ایک حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔

میں یہاں لینڈنگ پیج کے چند ایک متبادل ذرائع کا ذِکر کیے دیتا ہوں، اگر آپ کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو نیچے "خیالات" میں پوچھ سکتے ہیں اور اگر اس مضمون میں کسی قسم کا اِضافہ کرنا چاہیں تو میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں!

طریقہ 1 ~ Milestone


آجکل فیس بک پر آپ کے پیج پر آنے والے مہمان، بجائے آپ کے لینڈنگ پیج/ٹیب کے، سیدھے آپ کی "ٹائم لائن" پر آتے ہیں (فیس بک انتظامیہ کا شکریہ)، اس لیے ان میں سے زیادہ تر لوگ آپ کے کے پیج کو "لائیک" نہیں کرتے۔

جب آپ فیس بک پر کوئی تصویر/ویڈیو شیئر کرتے ہیں تو وہاں آپ کو ایک آپشن "Milestone" نظر آئے گا۔ Milestone کا استعمال کچھ بھی مشکل نہیں ہے، آپ Milestone کے ذریعے کوئی بھی خاص واقعہ پوری تفصیل، جگہ، تاریخ اور تصویر کے ساتھ اپنے دوستوں سے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ دراصل پیج پر موجود لمبی لکھی ہوئی تحاریر آپ کے مہمانوں کے لیے زیادہ دلچسپ نہیں ہوتی بنسبت تصاویر کے، اور اگر تصویر کے ساتھ کوئی خاص بات لکھی ہو، تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہو اور مزید یہ کہ وہ تصویر آپ کی "ٹائم لائن" میں بہت زیادہ واضح (دونوں قطاروں کے برابر) دکھائی گئی ہو تو مہمان اس تصویر کی طرف بہت زیادہ مائل ہوں گے۔

اب سوچیے! اگر آپ نے کوئی بہت ہی دلچسپ تصویر بنائی اور اس میں آپ نے اپنے مہمانوں کو آپ کے پیج کو پسند کرنے کی ترغیب دی تو اس بات کے کافی مواقع ہیں کہ لوگ آپ کے پیج کو پسند کرنا شروع کر دیں۔

طریقہ 2 ~ ٹَیب کی تصویر


آپ نے جتنے بھی ٹَیب بنا رکھے ہیں، ان کو عموماَ کوئی بھی مہمان نہیں دیکھتا۔ حالانکہ وہ آپ کے "کوَر" کے بالکل نیچے دکھائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی زیادہ تر لوگ وہ ٹیب نہیں کھولتے، کیوں؟ کیونکہ ٹیب کی بجائے آپ کی ٹائم لائن پر موجود تصاویر آپ کے مہمانوں کو زیادہ بھاتی ہیں۔

آپ اپنے مہمانوں کو "مجبور" کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کی ٹیب دیکھیں، اسے کھولیں، پڑھیں اور اس میں جو لکھا ہو اس پر عمل کریں۔

کیسے؟

سوچیے! جب آپ کا مہمان آپ کے پیج پر آتا ہے تو سب سے پہلے آپ کے "پیج کا کوَر" دیکھتا ہے اور اس کے بعد نیچے جاتا ہے، اور کوَر کے بالکل نیچے ہی تو ٹیب ہوتی ہیں، تو اگر آپ نے اپنی ٹیب کے لیے ایک جاذبِ نظر تصویر استعمال کی ہے تو آپ کا مہمان فوراَ اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا، اور زیادہ مواقع ہیں کہ وہ اس ٹیب کو کھول لے۔

تو بات یہ نکلتی ہے جناب کہ آپ نے جس ٹیب پر "لائیک گیٹ" استعمال کیا ہے، ایک تو اسے (کوَر کی نیچے ہی سہی مگر) نمایاں رکھیں اور دوسرا اس ٹیب کی تصویر تبدیل کریں اور ایک ایسی پر کشش تصویر استعمال کریں کہ دیکھنے والا اس ٹیب کو کھولنے پر "مجبور" ہو جائے۔

طریقہ 3 ~ پکا پوسٹ


فیس بک ہمیشہ سے جدت پسند واقع ہوئی ہے، اب یہی دیکھ لیں کہ آپ کے پیج میں ایک ایسی خصوصیت ہے جس کے استعمال سے آپ اپنے کسی بھی پوسٹ/تصویر کو اپنے پیج پر، جب تک چاہیں، سب سے اوپر لگا سکتے ہیں۔ اِس کو Sticky پوسٹ کہتے ہیں۔ (میں اسے پکا پوسٹ کہتا ہوں)

اب آپ ایک کام کریں، کچھ بہت ہی اچھی اور فائدہ مند معلومات (جس کی تلاش آپ کے مہمانوں کو ہو سکتی ہے) پر مشتمل ایک پوسٹ شائع کریں، اس میں ایک اچھی سی تصویر لگائیں، اب اس میں اپنی اس ٹَیب کا لنک دے دیں جس پر آپ نے "لائیک گیٹ" کا استعمال کیا ہوا ہے، اور اپنے مہمانوں سے درخواست کریں کہ وہ اس لنک کو کھولیں۔ جب آپ کے دوست/مہمان اس لنک کو کھولیں گے تو بہت زیادہ مواقع ہیں کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد آپ کے پیج کو لائیک کر لے گی۔

اب آپ اس پوسٹ کو "پکا پوسٹ" بنا دیں، اس طرح یہ آپ کے پیج میں سب سے اوپر دکھائی دے گا، اور آپ کے تمام مہمان اس پوسٹ کو آسانی کے ساتھ اور سب سے پہلے دیکھ سکیں گے۔

طریقہ 4 ~ نمایاں (Highlight) پوسٹ


اس پوسٹ آپشن کے ذریعے آپ اپنے کسی بھی پوسٹ کو اپنی ٹائم لائن پر نمایاں کر کے دکھا سکتے ہیں۔ جب بھی آپ کسی پوسٹ کو نمایاں کرتے ہیں تو فیس بک اس کو آپ کی ٹائم لائن پر دگنا سائز میں دکھاتا ہے، اور ایسے پوسٹ ہمیشہ آپ کے مہمانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ تو کیوں نہ وقفے وقفے سے کچھ ایسے سودمند پوسٹ نمایاں کر کے شائع کیے جائیں جن میں آپ کی اس ٹیب کا لنک شامل ہو جن پر آپ نے "لائیک گیٹ" استعمال کیا ہوا ہے، اور مہمانوں کو اس لنک کو کھولنے کی ترغیب دی ہوئی ہو۔ کیوں کہ جب بھی آپ کے مہمان آپ کے پیج کی ٹائم لائن کو دیکھے گا تو نمایاں پوسٹ اس کی توجہ اپنی جانب ضرور مبذول کرائیں گے اور وہ یقیناَ اس لنک کو کھول کر دیکھیں گے اور آپ کے پیج کو پسند بھی کریں گے۔

دوستو! یہ تو محض چار طریقے ہیں، لیکن میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بھی زیادہ طریقے جانتے ہیں، تو کیا خیال ہے، کیا آپ اپنے طریقے میرے ساتھ اور دوسرے دوستوں (جو اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں) کے شاتھ شیئر کریں گے؟

میرے مہمان

 

Copyright 2008 - All Rights Reserved by Brian Gardner Converted into Blogger Template by Bloganol dot com converted to urdu by urdujahan.com and وسیم نامہ