Wednesday, May 1, 2013

یکم مئی | یومِ مزدور

2 تبصرے
آج یومِ مزدور ہے جو کہ ہر سال مزدوروں کی ہمت بڑھانے اور حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے۔ ان دن کا آغاز لیبر یونین کی تحریک برائے "آٹھ گھنٹے کام" سے برطانیہ میں ہوا۔ اس سے پہلے روزانہ کام کرنے کا دورانیہ 10 سے 16 گھنٹے ہوا کرتا تھا اور بچے بھی اس مزدوری میں شامل تھے (جیسا کہ آجکل ہمارے پاکستان میں بچوں سے مزدوری کرائی جاتی ہے)۔ ایسے میں 'رابرٹ اوون' نے 1810 میں کام کے اتنے لمبے دورانے کو 10 گھنٹوں تک محدود کرنے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا، لیکن 1817 میں اس نے فیصلہ کیا کہ کام کرنے کا دورانیہ 10 کی بجائے 8 گھنٹے ہونا چاہیے، اور اس کے لیے اس نے مشہورِ زمانہ نعرہ بلند کیا "8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے ذاتی اور 8 گھنٹے آرام"۔ 1847 میں حکومت انگلستان نے عورتوں اور بچوں کے لیے کام کرنے کا دورانیہ 10 گھنٹوں تک محدود کر دیا۔ اگست 1866 میں 'جینیوا' میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں 'مزدوروں کے بین الاقوامی ادارے' نے یہ مطالبہ کیا کہ تمام مزدوروں کے لیے کام کرنے کا دورانیہ 8 گھنٹے کیا جائے اور اُن کا یہ مطالبہ مان لیا گیا۔

1 مئی 1923 کو برِ صغیر پاک و ہند میں پہلی بار یومِ مزدور 'مدراس' میں منایا گیا۔ دنیا کے 80 سے زائد ممالک کی طرح یہ دِن پاکستان میں بھی پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، پاکستان میں اس دِن عام تعطیل ہوتی ہے اور تمام حکومتی و غیر حکومتی ادارے، کارخانے اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی مزدور پالیسی 1972 میں بنائی گئی، لیکن پاکستان میں اب تک 5 مرتبہ مزدوروں کے لیے پالیسیاں بنائی اور تبدیل کی جا چکی ہیں:

 1) مزدور پالیسی 1955
 2) مزدور پالیسی 1959
 3) مزدور پالیسی 1969
 4) مزدور پالیسی 1972
 5) مزدور پالیسی 2002

 ان کے مطابق یکم مئی کو قانونی طور پر عام تعطیل کا دن قرار دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے آئین میں بھی پاکستانی مزدوروں کے لیے قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ ان پالیسیوں میں 'سوشل سیکیورٹی نیٹ ورک'، 'اولڈ ایج بینیفٹ سکیم' اور 'ورکرز ویلفیئر فنڈ' کے قیام کا ذکر بھی ملتا ہے۔ پاکستان اپنی آزادی کے بعد 1947 سے ہی 'ادارہ برائے بین الاقوامی مزدور' میں شامل ہے جو کہ 'اقوامِ متحدہ' کا ذیلی ادارہ ہے جس کام دنیا بھر میں عام لوگوں اور مزدوروں کو ان کے حقوق سے روشناس کرانا ہے۔ پاکستان اس ادارے کی اب تک 36 کانفرنسز میں شرکت کر چکا ہے جن میں سے 8 انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، گو کہ حالات اب پہلے سے قدرے بہتر ہیں، لیکن اب بھی مزدوروں کے لیے یہاں اتنی آسانیاں نہیں ہیں جتنی ترقی یافتہ ممالک میں ہیں۔ دوسرے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس روز مزدور جماعتوں کی طرف سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، مزدور لیڈر حضرات ان ریلیوں سے خطاب کرتے ہیں۔ یہ ریلیاں پورے پاکستان میں منعقد کی جاتی ہیں بالخصوص بڑے شہروں میں، اسی لیے اس دن تمام شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر رہتی ہے، کچھ بس مالکان اس دن اپنی بسیں نہیں چلاتے کیونکہ یہ عام تعطیل کا دِن ہے، اور چھٹی کی وجہ سے مسافروں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔ ٹریفک کی قدرے کم تعداد کے باوجود کچھ جگہوں پر ٹریفک جام نظر آتا ہے۔

ان سارے اقدامات کے باوجود پاکستان میں مزدوروں کی آمدنی میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں کیا جا سکا، مزدور لوگ آج بھی جب صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں تو یہ نہیں جانتے کہ شام کو اپنے گھر والوں کے لیے روٹی خرید لائیں گے یا نہیں، ان کے گھر والے فاقے برداشت کرنے کے عادی ہو چکے ہیں، یہ ریلیاں ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں، یہ صرف ایک ڈھکوسلہ ہے۔ کل بھی مزدور کی روزی 'ہوائی' تھی اور آج بھی ہے۔ کل بھی مزدور پاکستان میں بھوک کے ہاتھوں مر رہے تھے، خود سوزی کر رہے تھے اور آج بھی یہی حال ہے۔ 67 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے مگر ابھی تک مزدور اسی نہج پر کھڑے ہیں جہاں سے پیچھے کچھ نہیں ہے اور آگے آنے کی سکت باقی نہیں بچی۔ ہمارا ملک تو شاید آزاد ہو گیا تھا لیکن ہم آج تک آزاد نہیں ہو سکے۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر یومِ مزدور کیوں منایا جا رہا ہے؟

میرے مہمان

 

Copyright 2008 - All Rights Reserved by Brian Gardner Converted into Blogger Template by Bloganol dot com converted to urdu by urdujahan.com and وسیم نامہ