Thursday, November 28, 2013

پاکستان کا نیا چیف آف آرمی سٹاف - بائیوگرافی





جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے بروز ہفتہ بتاریخ 16 جون 1956ء کو کوئٹہ میں ایک ایسے راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی جس کا پاک فوج سے انتہائی گہرا تعلق ہے۔ بنیادی طور پر آپ صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک قصبے کُنجا سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کے والد محمد شریف پاک فوج کے میجر (ریٹائرڈ) ہیں۔ آپ کے والدین نے کٗنجا سے منتقل ہو کر لاہور میں رہائش اختیار کی۔ 3 بھائیوں اور 2 بہنوں میں آپ سب سے چھوٹے ہیں۔ آپ کے ایک بھائی کا نام میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر ستارہ جرات ہے جنہوں نے پاک بھارت جنگ 1971ء میں جامِ شہادت نوش کیا اور نشانِ حیدر حاصل کیا، اور دوسرے بھائی کا نام کیپٹن ممتاز شریف ستارہ بصالت ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز سپوت میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، جنہوں نے پاک بھارت جنگ 1965ء میں جامِ شہادت نوش کیا اور نشانِ حیدر حاصل کیا، آپ کی والدہ کے بہنوئی ہیں، اس طرح وہ آپ کے خالو ہوئے۔ آپ کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہیں۔ آپ کا بڑا بیٹا اکنامسٹ ہے اور باقی دونوں بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ آپ کو مطالعہ، پیراکی اور شکار کا شوق ہے۔

آپ کی بڑی ہمشیرہ مسز نجمی کامران کے بقول آپ ایک انتہائی کمٹِڈ اور اپنا کام لگن سے کرتے ہیں۔ آپ کے بھتیجے اور میجر شبیر شریف شہید کے صاحبزادے تیمور شبیر شریف نے بتایا کہ آپ ایک بہترین فوجی اور شفیق انسان ہیں، آپ کو خاندان میں پیار سے بوبی کے نام سے پکارا جاتا ہے، آپ بہت پروفیشنل ہیں اور اپنے تمام کورسز میں ٹاپ کیا ہے، اُنہوں نے مزید کہا کہ آپ کو گاڑیوں کا بہت شوق ہے اور انہیں جب بھی فرصت کے لمحات میسر آتے ہیں تو وہ لانگ ڈرائیو بھی کرتے ہیں۔

آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی، جو کہ اب یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے بعد آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول میں داخلہ لے لیا اور 54واں کورس پاس کیا، گریجوایشن کرنے کے بعد آپ نے اکتوبر 1976 کو فرنٹیر فورس بلوچ رجمنٹ کی چھٹی بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں آپ نے انفنٹری بریگیڈ گلگت میں فرائض سر انجام دیے، اس کے علاوہ آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے معاون کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے جرمنی سے کمپنی کمانڈر کا کورس کیا اور بعد ازاں سکول آف انفنٹری ان ٹیکٹکس میں بطور انسٹرکٹر خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کینیڈا سے اعزاز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ کمانڈ سٹاف اور انسٹرکشنل تقرریوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی ترقی ہوتی رہی اور پھر جنرل پرویز مشرف نے آپ کو گیارہویں انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ سونپ دی۔ جب آپ نے بریگیڈئر کا رینک حاصل کیا تو بریگیڈیر کی حیثیت سے انڈیپینڈنٹ انفنٹری گروپ اور دو انفنٹری بریگیڈز کی کمانڈ کی، جن میں کشمیر میں 6 فرنٹیر فورس رجمنٹ اور سیالکوٹ بارڈر پر 26 فرنٹیر فورس رجمنٹ شامل ہیں۔ آپ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کی فیکلٹی میں شامل رہے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے آرمڈ فورسز وار کورس کیا۔ آپ 30 کور اور 12 کور کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ آپ نے برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے گریجوایشن کی۔ اس کے علاوہ آپ انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈر اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ بھی رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے رینک تک ترقی حاصل کرنے کے بعد آپ نے 2 سال تک 30 کور کی کمانڈ کی اور اس کے بعد آپ کو پاک فوج کی ٹریننگ کے لیے انسپکٹر جنرل آف ٹریننگ اینڈ ایوالیوایشن کے عہدے پر فائض کر دیا گیا۔

آپ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو ہیں اور آپ نے آئی ایس آئی کے انسداد دہشتگردی ڈویژن کی کمانڈ بھی کی۔ آپ اپنے کیرئر میں بہت خوش قسمت رہے، ایسا دو بار ہوا جب قسمت آپ پر مہربان رہی۔ اول آپ جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریب رہے اور پسندیدہ افسران میں شامل تھے، 2002 میں جب آپ بریگیڈیئر تھے جنرل پرویز مشرف نے آپ کو ندیم تاج کی جگہ اپنا ملٹری سیکرٹری مقرر کیا (ندیم تاج پیپلز پارٹی کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے)۔ قسمت آپ پر یوں مہربان ہوئی کہ آپ کو برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس سٹریٹیجیز میں گریجوایشن کی آفر ہوئی جو آپ نے قبول کرلی اور برطانیہ چلے گئے، اگر آپ یہ آفر قبول نہ کرتے اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بطور ملٹری سیکرٹری ہی رہتے تو آج آپ کا کیرئیر مختلف ہوتا۔ دوسری بار قسمت یوں مہربان ہوئی کہ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم (جن کو آرمی چیف نہیں بنایا گیا) 12 اکتوبر 1999 کو (جب نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹایا گیا تھا) ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ اُس وقت ڈائریکٹوریٹ میں ان کے علاوہ بریگیڈیر ہارون سکندر پاشا (جو میجر جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے) اور بریگیڈئر اطہر علی (جو لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور بطور سیکرٹری دفاع اپنا کانٹریکٹ پورا کیا) بھی ڈائریکٹرز کی حیثیت سے تعینات رہے۔ وزیرِاعظم نواز شریف نے انتہائی باریک بینی سے سینیارٹی فہرست میں موجود تمام افسران کا جائزہ لینے کے بعد بالآخر آپ کو آرمی چیف منتخب کیا۔

بروز بدھ بتاریخ 27 نومبر 2013 وزیرِاعظم پاکستان جناب میاں نواز شریف نے آپ سے 15 منٹ کی ملاقات میں آپ کو بتایا کہ اُنہوں نے صدرِ مملکت کو ایک سمری بھیجی ہے جس میں آپ کو چیف آف آرمی سٹاف نامزد کیا گیا ہے۔ آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیرِاعظم، صدر، پاک فوج اور پاکستانی قوم کی توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے۔ صدرِ مملکت پاکستان جناب ممنون حسین نے آئین کے آرٹیکل 243/4 (اے) اور 243/4 (بی) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے بروز جمعہ بتاریخ 29 نومبر 2013 آپ کو فور سٹار جنرل کے رینک تک ترقی دی اور اُسی دن بحکم صدرِ پاکستان آپ کو پاکستان کے پندرہویں چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر منتخب کیا گیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نےجنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں بروز جمعہ بتاریخ 29 نومبر 2013 کو ایک تقریب میں کمانڈ سٹِک اور پاک فوج کا چارج دیا۔

ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر رساں ادارے رائٹر کی ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) بھارت سے کشمکش کے ساتھ ساتھ اندرونی خطرات کو بھی اُتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر، جن کی ماتحتی میں جنرل راحیل شریف (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے کام کیا تھا، نے بتایا کہ آپ نے فوجی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا کہ طالبان اور پاکستان کے اندر دیگر عسکریت پسند گروپس بھی اُتنا ہی بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ بھارت۔

4 تبصرے :

ڈاکٹر جواد احمد خان on Thursday, November 28, 2013 said...

کچھ بھی کہیے اور کیسے ہی قلابے ملا لیجیئے۔۔۔۔۔۔ جنرل راحیل پاکستان آرمی کا ہی جنرل ثابت ہوگا۔
جنرل کیانی اور جنرل مشرف کی طرح۔
I hate them all.

میرا پاکستان on Thursday, November 28, 2013 said...

جنرل کی بائیوگرافی میں نہ ان کی اسلامی خدمات کا ذکر ہے اور نہ جنگی خدمات کا۔ کیا انہوں نے 1971، سیاچین اور کارگل کی جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
خدا کی قدرت دیکھئے جس جنرل نے نوازشریف کا تختہ الٹا نواز شریف کو اسی کے ساتھی کو جنرل بنانا پڑا۔

منصور مکرم on Thursday, November 28, 2013 said...

مجھے خود کوئی زیادہ امید نہیں اس بندے سے۔
جس کی تربیت گوروں کے زیر سایہ ہوئی ہو،تو کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئے ،اس سے۔
یہی گُن ہم مشرف کے وقت بھی گاتے تھے، لیکن وہی سب سے زیادہ ملک کیلئے تباہ کُن ثابت ہوا۔

smshah on Tuesday, February 04, 2014 said...

وسیم نامہ میں جنرل راحیل کے بڑوں اور رشتہ داروں کی بہادری کی تعریف کی لیکں خود جنرل راحیل نے برطانیہ،جرمنی اور کنیڈا سے تربیت حاسل کی اور جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے فوجی قیادت کو اس بات پر قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا کہ طالبان اُتنا ہی بڑا خطرہ ہیں جتنا کہ بھارت۔ لیکن اب تو نواز سریف طالبان سے صلح کر رھا ھے اب جنرل صاحب کا کیا خیال ھے ـ جنرل صاحب کے بڑوں کی بہادری کے بارے میں عرض ھے ( کمہ ناوے چہ پہ خپلہ خایٰسہ نہ وی ـ سوک بیٰ سہ کاندی خایٰست دَ مور او نیا

Post a Comment

میرے مہمان

 

Copyright 2008 - All Rights Reserved by Brian Gardner Converted into Blogger Template by Bloganol dot com converted to urdu by urdujahan.com and وسیم نامہ